دل کو مار دینا ہے، آرزو نہیں کرنی🥀


مکمل ناول
#محبت_نا_محرم_تو
#تحریر_صباحت_رفیق_چیمہ

میری زندگی کی کتاب کا ہے لفظ لفظ یوں سجا ہوا 
سر ابتدا سر انتہا تیرا نام دل پہ لکھا ہوا 
عدن۔۔۔!عدن۔۔۔!خدا کے لئے چپ ہوجاؤ یار۔۔کیا پاگل پن ہے یہ؟زمرہ نے عدن کے چہرے سے چادر ہٹاتے ہوئے کہا تو عدن نے اپنی سرخ انگارے کی طرح ہوتی آنکھوں پر بازو رکھ لیا اور کہا ’ہاں میں پاگل ہوگئی ہوں،اس کے عشق میں...میں نہیں رہ سکتی اس کے بغیر..وہ اگر نہ ملا مجھے تو میں مرجاؤں گی‘ وہ اسی طرح لیٹی رہی اور زمرہ نے زچ ہوتے ہوئے کہا’بس بھی کرو نا!،مریں تمہارے دشمن،پلیز اب اٹھ جاؤ ،بس ایک دفعہ میری بات سن لو،پھر جو تمہارا دل چاہے تم وہ کرنا،میں تمہیں نہیں روکوں گی‘ زمرہ نے ساتھ ہی منت سماجت شروع کردی اور عدن اٹھ بیٹھی،سائیڈ پہ رکھے کشن کو اپنے تکیے کے نیچے رکھ کر ٹیک لگا لی اور زمرہ بھی اپنے پیراوپر کرکے بستر پہ آرام دہ انداز میں بیٹھ گئی،عدن کا ہاتھ اپنے ہاتھ میں لے کر اسے دیکھا اور کہا’دیکھو،تم کہتی ہو کہ تمہیں وہی شخص چاہئیے وہ بھی محرم طریقے سے میرا مطلب وہ تم سے نکاح کرلے ،کیوں کہ تمہیں لگتا ہے کہ تمہارے دل میں اس کی محبت اللہ نے ڈالی ہے؟‘اس نے عدن کے ٹھوڑی پہ ہاتھ رکھ کر کہا’ میں صحیح کہہ رہی ہوں ناں؟‘تو عدن نے اثبات میں سر ہلا دیا۔’تو میری جان!مجھے یہ بتاؤ کہ اللہ نے کب نامحرم سے محبت کی اجازت دی ہے؟االلہ نے کدھر لکھا ہے کہ جس کام کے لئے اس نے منع کیا ہے ہم اسی کام کے لئے میرا مطلب تھا گناہ کے لئے سجدوں میں جا جا کر رورو کر دعائیں مانگیں گے تو اللہ قبول فرمالیں گے؟‘عدن اسے دیکھتی رہ گئی اور زمرہ نے اپنی بات جاری رکھی۔’عدن یہ جو محبت ہوتی ہے ناں،بہت ذلیل و خوار کرتی ہے،انسان کو رسوا کر کے رکھ دیتی ہے ،جانتی ہو ایسا کیوں ہوتا ہے؟‘ زمرہ نے عدن کو دیکھا اور چپ ہوگئی تھوڑی دیر بعد پھر بولنے لگی۔’کیونکہ اللہ ہمیں نامحرم سے محبت کی اجازت نہیں دیتااور پھر جو لوگ اللہ کی بات نہیں مانتے وہ لوگ ذلیل ورسواہی ہوتے ہیں‘ زمرہ لمحے بھر کے لئے رکی تھی لیکن عدن بول پڑی۔’زُمرہ مجھے یہ تو بتاؤ کہ کدھر لکھا ہے محبت کرنا گُناہ ہے؟تم مجھے وہ آیت یا کوئی حدیث دکھا دو جس میں محبت کی ممانعت کی گئی ہو۔‘ تو زُمرہ نے کہا، ’ عدن میں مانتی ہوں کہ پراپر کہیں بھی اس کی ممانعت نہیں کی گئی لیکن جیسے سورۃ النورمیں اور سورۃ الاحزاب میں اللہ نے نا محرم سے بات کرنے سے بھی منع کیا گیا ہے یہاں تک کہ نگاہیں نیچی رکھنے کا حُکم دیا گیا ہے تو پھر اللہ نے کہاں محبت کی اجازت دی ہے؟‘ ’پتہ ہے اللہ نے یہ حُکم کیوں دیا ہے؟ کیو ں کے اللہ نے مرد و عورت کے درمیان ایک واضح کشش رکھی ہے اس لیے محبت ہونا ایک فطری امر ہے اس پہ اللہ کے سوا کسی کا اختیار نہیں ، اور ہم انسان ہیں ہی خطا کار اور اگر کبھی نظر چوک جائے کسی سے محبت ہو جائے تو پھر یہ بہتر اصول ہے کہ اللہ سے مانگو ، اور میں دو سال سے اللہ سے ہی مانگ رہی ہوں ، میں اُس انسان کے آگے جا کے تو محبت کی بھیک نہیں مانگی نا تو پھر بتاؤ کیا یہ گُناہ ہے؟ کیا میں غلط کام کر رہی ہوں ؟ نہیں زُمرہ محبت گُناہ نہیں ہو سکتی یہ تو ایک بہت ہی پاکیزہ جذبہ ہے اگر میری قسمت میں ہوئی تو ضرور ملے گی اور اگر نہ ملی تو میرا زندہ رہنا نا ممکن ہے۔‘ اُس نے بے بسی سے کہا تو زُمرہ نے اُس کے دونوں ہاتھ تھام لیے’کیسی باتیں کر رہی ہو عدن اللہ نہ کرے تمہیں کچھ ہو، اگر تمہیں لگتا کہ وہ تمہیں نہیں مل سکتا تو پھر اُس کو بھول کیوں نہیں جاتی؟‘’ زمرہ میں اسے بھلانا چاہوں بھی تو نہیں بھلاسکتی،مجھے تو وہ ہرپل ہردم یاد آتا ہے،پھر میں کیسے سجدہ رو ہوکر اس کے لئے دعا نہ مانگوں؟جب سجدے میں جاتی ہوں آنسو خود بخود جاری ہوجاتے ہیں آنکھوں سے اور زبان پھر ایک ہی دعا مانگتی ہے،میرا خود پرقابو نہیں رہتا،میرا دل،میری سوچ،میرے الفاظ بھی جیسے اس کے لئے مقیط ہوگئے ہوں!تھک گئی ہوں ،کوشش کے باوجود بھی میں خود پہ قابو نہیں رکھ پارہی ،جانتی ہو؟اب اگر میں اس سے بات نہ کی تو یقین کرو میں مرجاؤں گی‘عدن نے بے بسی کی آخری حد پر پہنچتے ہوئے کہا اور زمرہ کے ہاتھوں پر اپنا چہرہ رکھ کر رونا شروع کردیا،زمرہ سے اس کی یہ حالت غیر دیکھی ہی نہیں جارہی تھی۔
ٌٌٌٍْؒ ْْْ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
؂؂تم چاند کی چاہت کرتے ہو 
تم کچھ کچھ پاگل لگتے ہو
گندمی رنگت ،براؤن آنکھیں ،گلابی ہونٹ، کالے سلکی بال ،بھرپور جسامت(باڈی بلڈر جو تھا) والا حسیب دوسروں پہ چھا جانے کی مکمل صلاحیت رکھتا تھا جب وہ ہاف سلیوز شرٹ پہنتا تھا اس کے ابھرے ہوئے بازو اسے دوسروں میں ممتاز کردیتے تھے۔اور یہی وہ حسیب تھا جس پر عدن فدا تھی بلکہ یوں کہنا چاہئیے کہ محبت ایسی کہ مر مٹنے والی،اسے یونیورسٹی میں دیکھا تھا اور دل ہار بیٹھی،پر اپنی محبت کو دل کے نہاں خانوں میں چھپا کے رکھا تھا۔وہ دونوں ایک دوسرے سے الٹ تھے،عدن جو لڑکوں سے باتیں بھی نہیں کرتی تھی اس بات کو گناہ سمجھتی تھی تو وہیں حسیب لڑکیوں میں گھرا رہتا تھا اور کیفے میں بیٹھ کر ا پنے دوستوں کے ساتھ لڑکیوں پہ کمنٹ پاس کرنا اس کا پسندیدہ مشغلہ تھا۔عدن جو کہ گاؤں سے اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے کا خواب لئے پنچاب یونیورسٹی آئی تھی،سادہ لوح سی تھی،اس کا معصوم سا چہرہ اوراس کی آنکھیں اس کی معصومیت کی گواہی دیتے تھے۔اس کی ایک ہی دوست بنی تھی زمرہ جو اس کی ہاسٹل میں روم میٹ بھی تھی اور کلاس فیلو بھی،پچھلے دو سال سے ان کی دوستی دن بہ دن گہری ہوتی جارہی تھی۔
عدن نے جب سے حسیب کو دیکھا تھا تب سے ہی وہ ہر نماز میں اللہ سے ایک ہی دعا کرتی تھی،سجدے میں جا کر رونا اور ایک ہی دعا مانگنا’اے میرے اللہ!میری محبت اس کے دل میں بھی پیدا کردے،اسے میری قسمت میں لکھ دے،میری حق میں یہ دعا بہتر کر دے ۔‘عدن یہی چاہتی تھی کہ حسیب بات کرنے میں پہل کرے لیکن وہ اس سے بات کیوں کرتا؟اسے کلاس میں صرف ایک لڑکی بری لگتی تھی اور وہ تھی ’عدن حاشر‘ سب سے پہلی بات وہ لڑکوں سے بات نہیں کرتی تھی اگر لڑکوں سے بات نہیں کرنی تھی تویونیورسٹی ہی نہ آتی۔۔ دوسری بات اس نے اپنی برتھ ڈے پارٹی پہ ساری کلاس کو انوائٹ کیا تھا لیکن عدن نہیں آئی تھی وش کرنا تو دور کی بات تھی یہ وہ باتیں تھیں جنہوں نے لا شعوری طور پہ اس کے ذہن میں جگہ بنا لی تھی اس امیرزادے نے خود سے عہد کر لیا تھا کہ وہ عدن حاشر کو اپنے سامنے جھکا کے ہی رہے گا ۔ ابھی کچھ دیر ہی گزری تھی کہ اس نے اس کی آنکھوں کے رنگ پڑھ لیے تھے اور وہ انتظار میں تھا کے کب وہ اس سے بات کرے ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
میرے دل کی تسلی کو فقط اتنا ہی کافی ہے 
ہوا جو اسکو چھوتی ہے میں اس میں سانسیں لیتا ہوں
موسم ابرآلود تھا،عدن اور زمرہ کیفے سے باہر نکلیں ،عدن کی کھوجتی نگاہیں زمرہ کو حیران کررہی تھیں۔
’کہاں کھوئی ہوئی ہو؟کسے ڈھونڈ رہی ہو میڈم؟‘ زمرہ کی بات پہ عدن کی آنکھیں ایک دم اداس ہوگئیں
’ہاں..نہیں ..کچھ نہیں بس چلو‘ دونوں خاموشی سے چلتے ہوئے پارکنک ایریا میں آئیں اور رکشے میں بیٹھنے لگیں۔سامنے سے حسیب اور اسکا دوست ہاشم گزرا تو زمرہ کو اچانک ہاشم کی کوئی بات یاد آگئی وہی بتانے کے لئے عدن کی طرف دیکھا تو اس کے چہرے پہ مسکان تھی اور اسکی نظریں سامنے کھڑے حسیب پہ تھیں،اس نے بات کرنے کا ارادہ ترک کردیا۔دونوں ہاسٹل آچکی تھیں سارے دن کی تھکن اتارنے کے بعد میس سے کھانا کھا کر واک کے لئے ہاسٹل کے لان میں ٹہلنے لگیں،ادھر ادھر کی باتوں میں وقت گزار کر سونے چلی گئیں۔عدن تو بے سدھ سو رہی تھی جبکہ زمرہ کو نیند ہی نہیں آرہی تھی وہ اٹھی اور سامنے کھلے رجسٹر کو دیکھنے آئی،وہ عدن کی ٹیبل تھی،رجسٹرکے بیچ میں پین دبا ہوا تھا وہ کھولا تو ایک غزل کاغذ پہ جگمگارہی تھی۔
کبھی ایسا بھی ہوتا ہے 
جب واپسی کے سفرمیں
دل میں اسے دیکھنے کی 
معصوم سی خواہش جنم لیتی ہے 
تو آنکھیں بیتابی سے 
بھیڑ میں چاروں طرف
اپنے خوابوں کے شہزادے کو 
ڈھونڈنے لگتی ہیں
لیکن پھر مایوس ہو کے 
جھک جاتی ہیں اور پھر
بے پناہ اداسی لیے 
واپسی کے سفر پے 
قدم بڑھانے لگو تو اچانک 
دل انوکھی طرز پہ 
دھڑکنے لگتا ہے 
آنکھیں دل کا پیغام پا کے 
جب اوپر اٹھتی ہیں تو وہ
دشمن جان اپنی تمام تر 
وجاہت لیے سامنے سے 
آتا دکھائی دے تو 
ایسا لگنے لگتا ہے کہ 
اسے محسوس ہوتا ہے 
جو میں اس کے لیے 
محسوس کرتی ہوں
یہ مسحور کن خیال
بہت مغرور کرتا ہے 
اس کا نظر ہی آ جانا
بہت مسرور کرتا ہے 
غزل پڑھنے کے بعد اور آج جس طرح اس نے حسیب کو دیکھا اس میں اب کسی شک کی گنجائش ہی باقی نہیں رہی تھی۔اگلے دن رات کو فارغ ہو کے اس نے عدن سے بار ہا پوچھا جس پر پہلے پہل تو اس نے انکار کیا آخر میں اعتراف کرلیا جسے سن کر زمرہ نے مٹھی بھینچی اور اپنا سر دوسرے ہاتھ سے تھام لیا عدن کی سمجھ نہ آئے وہ آگے کیا کہے’تمہارا دماغ تو خراب نہیں ہوگیا ہے؟دو سال عدن دو سال تم نے ایسے انسان کے لئے ضائع کردیئے جو کسی صورت تمہارے لائق نہیں!ایسا کیا دیکھ لیا تم نے اس میں؟اس سڑی مرچ میں کیا نظر آیا مجھے بھی بتاؤ،اس کا حسنِ اخلاق؟؟اس کی اخلاق کی تو خیر بات ہی کیا کرنی وہ تو تم بھی اچھے سے جانتی ہو بلکہ سب ہی جانتے ہیں‘زمرہ کی بات کے بعد اس نے کچھ بولنا چاہا تھا لیکن زمرہ کے غصے میں ہونے کی وجہ سے چپ ہوگئی۔توزمرہ نے ابرو اچکا کر پوچھا’اب کیا ہے؟‘ ’مجھے اس کا نمبر چاہئے،دیکھو میں بس اس سے ایک دفعہ بات کرنا چاہتی ہوں‘ ’تم پاگل ہو کیا واقعی؟؟ میں اس کا نمبر نہیں لے سکتی اور اگر ملا بھی تو تمہیں نہیں دونگی‘ تب تو وہ خاموش ہو گئی زُمرہ کو لگا کہ اُسے اُس کی بات سمجھ آ گئی ہے تو وہ واک کرنے لان میں چلی گئی لیکن جب واپس آئی تو اُسے اس طرح روتے دیکھ کے وہ پریشان ہو گئی اور پھر اب وہ جیسے اُس کے ہاتھوں پہ اپنا چہرہ رکھ کے روئی تھی تو اُس نے G.R سے نمبر لینے کا وعدہ کرلیا۔
اے درد عشق ہے گہر آبدار تُو
نہ محرموں میں دیکھ نہ ہو آشکار تُو ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
رب دی منگی ضایا نئی جاندی 
منگ ویکھ دعا تیری جان چھٹے 
اینج مار نہ مینوں قسطاں وچ
یک مشت مکا تیری جان چھٹے
’حسیب جہانگیر؟؟؟‘ عدن نے میسج ٹائپ کر کے اسکے نمبر پہ سینڈ کیا۔ میسج کی بپ پہ وہ اٹھ بیٹھالائٹ آن کی اور سائیڈ ٹیبل پہ رکھا سیل فون اٹھایا۔ نامعلوم نمبر سے میسج تھا۔ (ہوز دئیر؟؟) لکھ کے اس نے سینڈ کر دیا ۔ (عدن حاشر ) وہ جو ٹیک لگا کے بیڈ پہ بیٹھا تھا میسج پڑھتے ہی سیدھا ہو کے بیٹھ گیا اور کھل کے مسکرا دیا دو سال میں تمہارے میسج کا انتظار کیا ہے بہت انتظار کروایاہے تم نے اس نے سوچا اور (ہاں بولو) لکھ کے سینڈ کر دیا ۔ تو عدن نے دھڑکتے دل کے ساتھ اپنی لکھی ہوئی غزل سینڈ کر دی۔غزل پڑھ کے وہ مسکرا دیا دلآویزی سے۔اور اسکا آخری مصرع زیرلب دہرایا۔۔ اسکا نظر ہی آ جانا ،بہت مسرور کرتا ہے۔اس نے ٹائپ کیا (میرے جیسے بندے کو ان باتوں کی سمجھ نہیں آتی) ۔۔ (یہ تم میری انسلٹ کر رہے ہو )میسج پڑھ کے وہ قہقہہ لگا کے ہنس دیا کیا چیز ہے یہ اسے کیسے پتہ چل گیا کہ میں اسکی انسلٹ کر رہا ہوں (انسلٹ کیسی مجھے اتنی مشکل اردو سمجھ ہی نہیں آتی)۔ عدن کو اسکا میسج پڑھ کے لگا وہ جھوٹ بول رہا ہے ( نا کرو ایسا میں مر جاؤں گی حسیب۔۔) میسج پڑھ کے اس کی عجیب سی کیفیت ہوئی تھی لیکن اس نے اگنور کر دیا (آئی ڈونٹ کیئر) ۔۔ اسکا جواب پڑھ کے کب کے روکے ہوئے آنسو بہہ نکلے کیا اس شخص کو واقعی کو ئی فرق نہیں پڑے گا؟؟؟ (اگراتنی ہی نفرت ہے تو سچے دل سے مجھے مرنے کی دعا ہی دے دو سچے دل سے مانگی گئی دعا ضرور قبول ہوتی ہے)۔ اس کے دل کو پھر کچھ ہوا تھا لیکن کیوں؟؟؟ وہ سمجھنے سے قاصر تھا ساری خوشی اداسی میں بدل گئی لیکن کیوں ؟؟ وہ اسے جھکا نا چاہتا تھا اور آج جب وہ جھک گئی تھی تو اس کی حالت کیوں عجیب سی ہو رہی تھی ۔۔ (پلیز عدن۔۔۔ میں تمہاری کوئی بات نہیں مان سکتا ۔اور کوئی کسی کے لیے نہیں مرتا ، محبت کچھ نہیں ہوتی ۔۔۔مجھے نیند آ رہی ہے میں سونے لگا ہوں بائے۔۔)۔۔۔ (مرے ہوئے لوگ بہت یاد آتے ہیں حسیب تم دیکھنا ایک دن تمہیں بھی میں یاد آؤں گی لیکن تب بہت دیر ہو چکی ہو گی۔۔ تب تم بہت رو ؤگے۔۔)اس نے میسج سینڈ کر کے سیل آف کر دیا اور تکیے میں چہرہ رکھ کے پھوٹ پھوٹ کے رو دی۔۔۔
اگلے دن عدن نے یونیورسٹی جانے سے انکار کردیا تو زمرہ نے بھی اسے جانے کے لیے فورس نا کیا وہ سمجھ رہی تھی فی الحال وہ حسیب کا سامنا نہیں کرنا چا ہ رہی تھی۔ شام کو وہ دونوں ویک اینڈ گزارنے کیلیے اپنے اپنے گھروں کو روانہ ہو گئیں ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
تیری حیات کا ہر لمحہ شادماں گزرے
بہار سجدہ کرے تو جہاں جہاں گزرے
زمرہ ویک اینڈ گزارکے واپس آ ئی توعدن ابھی تک نہیں آئی تھی اس نے دوپہر تک انتظار کیا لیکن جب وہ دوپہر تک بھی نہیں آئی تو اس نے اسکا نمبر ملایا لیکن وہ بند جا رہا تھا اسکی جو حالت تھی اس کے پیش نظر زمرہ کی ا س کے لیے فکرمندی لازمی تھی اسی طرح تین دن گزر گئے لیکن اسکا نمبر مسلسل آف جا رہا تھا اگلا جمعہ آ گیا تھا آج صبح سے ہی اسکا دل گھبرا رہا تھا اس نے یونی سے بھی آج آف کر لیا تھا اس نے نماز جمعہ ادا کی اور سورہ کھف کی تلاوت کر کے اللہ سے سب اچھا ہونے کی دعا ما نگی تو اس کے سیل پہ رنگ ہوئی اس نے دیکھا تو عدن کا لنگ جگمگا رہا تھا اس نے شکر کا کلمہ ادا کیا اور ایک منٹ کی تا خیر کیے بنا کال اٹینڈ کی اور ساتھ ہی نان سٹاپ بولنا شروع ہو گئی " عدن کی بچی پتہ میں کتنا پریشان رہی ہوں پورا ہفتہ ، بے مروت کوئی ایسا بھی کرتا ہے کہ پکڑ کے موبائل ہی آف کر دو بس اب جلدی سے واپس آ جاؤ میں تمہاری اچھی خاصی کلاس لینی ہے ۔" اسے اپنی بات کے جواب میں صرف ہچکیوں کی آواز سنائی دی تھی
"آپا ، عدن آپا چلی گئی ہیں ہم سب کو چھوڑ کے۔۔۔ آپ بس جلدی سے آ جاؤ اپنی دوست کا آخری دیدار کر لو ۔" یہ الفاظ تھے یاپگھلا ہوا سیسہ جو کسی نے اس کے کانوں میں انڈیلا تھا اسے لگا کے وہ مر گئی ہو جیسے اسکا سانس بند ہونے لگا ہو لیکن نہیں وہ زندہ تھی اس نے بے جان ہوتے جسم کے ساتھ ان کے گاؤں کا ایڈریس پوچھا تھا ۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
غم حیات کا جھگڑا مٹا رہا ہے کوئی 
چلے آؤ کہ دنیا سے جا رہا ہے کوئی 
انہیں گاؤں پہنچنے میں ڈھائی گھنٹے لگے تھے مغرب کے بعد جنازہ تھا اور مغرب ہونے میں صرف آدھا گھنٹہ رہ گیا تھا اس کی نظروں کے سامنے اس کی عزیز از جان دوست ساری دنیا سے ناراض ہو کے اب پر سکون نیند سو رہی تھی یہ حسین آ نکھیں جنہوں نے حسیب کے سا تھ کے سپنے دیکھے تھے آج بند تھیں یہ پھول جیسے خوبصورت ہونٹ جو حسیب کو دیکھ کے مسکرا اٹھتے تھے آج خا موش تھے لوگ کہہ رہے تھے پہلی دفعہ کسی میت پہ اتنا نور دیکھا ہے’ حسیب میں تمہیں کبھی معاف نہیں کروں گی تمیں میری آ ہیں لگیں گی تمہاری و جہ سے میری دوست مجھ سے چھن گئی ہے بہن بھائی سے ان کی بہن چھن گئی ہے ماں باپ سے ان کی بیٹی چھن گئی ہے" جنازے کا وقت ہو گیا تھا وہ اسے لے کے جا رہے تھے اسے ایسا لگ رہا تھا جیسے اس کے جسم کا کوئی حصہ نکال کے لے جایا جا رہا ہو وہ اس کی امی اور بہن کے ساتھ لگ کے چیخیں مار ما کے روئی تھی۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اے محبت تجھے پانے کی کوئی راہ نہیں 
تو،تو اسکو ملتی ہے جسکو تیری پرواہ نہیں
اُس نے بھیگی آنکھوں کے ساتھ عدن کی ڈائری کھولی جو اُس کی چھوٹی بہن عدین نے اُسے گفٹ کر دی تھی
سولہ اکتوبر 
مجھے کافی دن سے نجانے کیوں ایسا محسوس ہو رہا ہے جیسے میرا سانس بند ہو رہا ہو جیسے بس اب میرا آخری وقت قریب آ گیا ہے، لیکن میں ابھی مرنا نہیں چاہتی ، مجھے اندھیرے سے ہی بہت ڈر آتا ہے تو قبر میں میرا کیا حال ہو گا یہ سوچ کے ہی میرے رونگٹے کھڑے ہو جاتے ہیں ، آہ۔۔۔ لیکن مجھے پتہ ہے کہ آخر قبر میں ہی جانا ہے ۔ اور پتہ نہیں کیوں میرا دل کر رہا تھا کہ میں ایک دفعہ حسیب سے بات کروں ایسے جیسے اب نہ کی تو پھر کبھی نہیں کر سکوں گی ، اور پھر جب میں نے اُس سے بات کی تو میری اُمید کے مطابق اُس نے میری محبت کو ٹھکرا دیا میرے جذبوں کو روند ڈالا ، اور میرا تو کُل اثاثہ ہی اُس کی محبت تھا اور جب اُس نے میری محبت ہی ٹھُکرا دی تو مجھے ایسا لگا جیسے میرا کُل اثاثہ ہی لُٹ گیا ہو اُس رات میں تنہائی میں چیخیں مار مار کے روئی تھی تب لاشعوری طور پہ ہی میرے دل میں اللہ سے ہزاروں شکوے اُمڈ آئے کہ میں دو سال سے اللہ سے صرف ایک شخص کو مانگتی آئی تھی اور اللہ نے میری ایک دُعا ہی نہیں قبول کی ، کیا تھا اگر اللہ اُس کے دل میں میرے لیے تھوڑی سی محبت ہی پیدا کر دیتے، اللہ کے لیے تو کچھ بھی نا ممکن نہیں ہے ناتو پھر کیا تھا اگر وہ ایسا کر دیتے ، پھر اُس ساری رات اسی طرح میرے دل میں شکوے سر اُٹھاتے رہے اور پھر فجر کے وقت میں جان بوجھ کے ڈھیٹ بن کے لیٹ گئی کیونکہ میں نماز ادا نہیں کرنا چاہتی تھی اور پھر نجانے کیسے میری آنکھ لگ گئی اور جب میں چار گھنٹے سونے کے بعد اُٹھی تو کچھ حواس ٹھکانے آئے اور تب میرے ضمیر نے مجھے پُکارا کہ رات تو بہت شکوے کر لیے اللہ سے لیکن اب مجھے یہ تو بتاؤ تم نے دو سال اللہ سے مانگا لیکن تمہیں یہ یقین نہیں تھا کہ تمہیں اُس کی محبت مل جائے گی کیونکہ تمہارے دل میں ہمیشہ یہ ہی تھا کہ اگر تم نے اُس سے کہا کہ تمہیں اُس سے محبت ہے تو وہ ٹھُکرا دے گا اور پھر وہ ہی ہوا نہ جو تم نے سوچا تھا ، تم نے دُعا تو مانگی لیکن تم دُعا کا طریقہ بھول گئی ، میرے ضمیر نے مجھے جگایا تو سورۃ فاتحہ کا شان نزول عرصے بعد میرے ذہن میں تازہ ہوا جو آج سے دس سال پہلے ترجمہ کی کلاس میں باجی نے بتایا تھا کہ سورۃ فاتحہ سب سے پہلے حضرت آدم ؑ پہ نازل ہوئی یہ درخواست ہے جو اللہ نے ہدایت مانگنے پر بندے کو سکھائی، اس میں یہ سمجھایا گیا ہے کہ جب کسی بزرگ ہستی سے کوئی دُعا کرنی ہو تو سب سے پہلے اس کے درجے ، عُہدے اُس کے بزرگ اور ربوئیت کا اظہار کرنا اس کے اختیار کو ماننا اور دوسرے درجے پراپنے کم ترہونے کا اعتبار رکھنا اور اس بات کا یقین دلانا کہ جس کے سامنے آپ دُعا کر رہے ہیں وہ اس کو قبول کرنے کا مکمل اختیار رکھتا ہے اور پھر اپنی دُعا کو اچھے اور احسن طریقے سے پیش کرنااور پھر اس کے قبول کر لینے کی التجا کرنا۔ اور میں نے کیا کیا دُعا تو کی اس کے قبول کر لینے کی التجا بھی کی لیکن جو دُعا کا اہم رُکن تھا میری دُعاؤں میں وہ ہی نہیں تھا، وہ یقین کامل ہی نہیں تھا تو پھر کیسے میری دُعا قبول ہو پاتی ۔ اب مجھے احساس ہواتھا اور اب مجھے بس ایک ہی کام کرنا تھا بس اپنے اللہ سے معافی مانگنی تھی ہاں اور اب میں اس یقین کے ساتھ مانگوں گی کہ میری دُعاضرور قبول ہو گی اللہ مجھے معاف کر دیں گے۔ اوکے میری پیاری ڈائری ، 
زندہ رہی تو پھر ہوں گی محو گُفتگو 
گُزر گئی تو اپنا سلام آخری ہے۔
زُمرہ اُس کی ڈائری پڑھ کے پھوٹ پھوٹ کے رو دی ۔
َِ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ 
کاش کہ وہ لوٹ آ ئے مجھ سے یہ کہنے
میں کون ہوتا ہوں تم سے بچھڑنے والا 
پتہ نہیں کیوں اس سے بات کرنے کے بعد اب افسوس ہو رہا تھا کہ اس کے ساتھ ایسا نہیں کرنا چاہیے تھا اور جب وہ اگلے دن یو نیورسٹی بھی نہ آئی تو اس کا دل بے چین ہوا تھالیکن اس نے پھر اگنور کر دیا ۔ لیکن
جب وہ اگلا ہفتہ بھی نہ آئی تو اسکا دل اسے دیکھنے کیلیے مچلنے لگا ۔ وہ ہفتہ کی رات تھی جب اس نے خود سے اعتراف کر ہی لیا کہ حسیب جہانگیر کو عدن حاشر سے آخر محبت ہو ہی گئی تھی اور آخر کیوں نہ ہوتی چاہا جانا کتنا خوبصورت احساس ہوتا ہے اور جب ہم دو سال سے کسی کی آنکھوں میں اپنے لیے خاموش محبت کے رنگ دیکھتے آ رہے ہوں ، ابن آدم اعتراف کر رہا تھا بنت حوا کی بیٹی سے محبت کالیکن کب؟؟؟؟؟ اس کے اس دنیا سے جانے کے اگلے دن ۔ اسے محسوس ہو رہا تھا جیسے وہ صرف اس سے بچنے کے لیے یونی نہیں آ رہی تو اس نے اسے کال کرنے کا سوچا لیکن جب نمبر ملایا تو وہ آف تھا کوئی بات نہیں سوموار والے دن فیس ٹو فیس بات ہو جائے گی، اس نے سوچا ۔ اس نے بہت مشکل سے اتوار کا دن گزارا تھا اور سوری کا خونصورت سا کارڈخریدا اورگولڈ کا نیکلس جس پہ باریک سا عدن حسیب لکھا تھا سپیشل آرڈر پہ بنوایا اسے پرپوز کرنے کے لیے۔ سوموار والے دن وہ ابھی کلاس میں داخل ہوا ہی تھا تو سب زمرہ کے گرد اکھٹے تھے اس نے بھی پاس جا کے پوچھا " ہیلو گائز کیا ہوا ہے ؟؟؟ "
"عدن کی فرائیڈے والے دن ڈیتھ ہو گئی ہے " اسکی کلاس فیلو جویریہ نے جواب دیا۔بے یقینی سے اُس نے پوچھا ’کیسے؟‘ ’کچھ بھی نہیں ہوا تھا وہ ٹھیک تھی بالکل اُس نے جمعہ کی نماز ادا کی تھی اور دُعامانگ رہی تھی کہ ملک الموت نے روح قبض کر لی۔‘جویریہ نے کہا جو زُمرہ کے ساتھ عدن کے گھر گئی تھی تو وہ سُن کے لڑکھڑایا تھا" تم مذاق کر رہی ہو نہ؟؟؟"اس نے جویریہ سے کہاسب حسیب کی بات سن کے بے یقینی سے اسے دیکھنے لگے کہ اسے کیا ہوا اس کا رنگ ایسے ہو رہا تھا جیسے کسی نے سارا خون نچوڑ لیا ہو زمرہ نے حقارت سے اسکی طرف دیکھا تھا اور اٹھ کے کلاس سے باہر چلی گئی۔ حمزہ نے حسیب کو پکڑ کے کرسی پہ بٹھا یا تھا " حسیب تم ٹھیک تو ہو نا؟؟" زاویار نے پوچھا تھا ۔۔۔ اور اس نے اپنے دائیں ہاتھ کی مٹھی زور سے بھینچ لی جس کے اندر دو لفظ جگمگا رہے تھے ۔عدن حسیب ۔اسنے کرسی کی بیک پہ سر ٹکا کے آنکھیں موند لیں اووہ اپنی آنکھوں میں آئی نمی کو چھپانا چاہتا تھا ، 
میری سانسیں گروی رکھ کے
کاش کوئی مجھے لوٹادے 
وہ گزرے وقت کی کچھ سا عتیں
جس میں پھر ایک بار
وہ مجھ سے اقرار محبت کرے 
اور اس بار میں 
اُسے اپنا محرم بنا لوں 
اُسے اپنی محبت سے امر کر دوں 
میں اپنی جان بھی اس پہ وار دوں 
بس کوئی مجھے ایک بار پھر لوٹادے 
وہ گزرے وقت کی کچھ سا عتیں
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

تحریر ۔۔ صباحت رفیق چیمہ
ختم شده

Post a Comment

1 Comments