آپ تھانیدار بدل دیں. کوئی نیا آدمی بیٹھا دیں جو اس کیس کو سنجیدگی سے لے. "
" حمزہ تم سمجھدار ہو یار! کوئی بھی کیوں بڑی سیاسی شخصیت سے دشمنی مول لے گا؟ جس طرح تمہین اپنی فیملی پیاری ہے, سب کو اسی طرح اپنے گھر والے عزیز ہیں. " آئی جی صاحب نے میز پر رکھی چائے کی طرف اشارہ کیا. اور حمزہ نے سر جھکا لیا. اپنی فیملی کی حفاظت کے لیے پیچھے ہٹ کر اس نے کچھ غلط نہیں کیا تھا. مگر پھر وہ کیوں بے سکون تھا.
" سر پلیز. وہ آدمی بڑی امید لے کر میرے پاس آیا تھا. ڈو سم تھنگ فار دیم. " وہ اب بھی اٹکا ہوا تھا.
" تو تم خود کیوں نہیں اس کیس کو دیکھ لیتے؟ پھع ممر جس کا مرضی نام,ڈالنا جسے مرضی پکڑنا. " آئی جی صاحب نے حل بتایا اور حمزہ نے نفی میں سر ہلایا.
" دس سسٹم از دی موسٹ کرپٹ ون." وہ بڑبڑایا.
" تو حمزہ. سسٹم کو بدلنے کے لیے سسٹم کا حصہ بننا پڑتا ہے. باہر کھڑے ہو کر آپ سسٹم کو نہیں بدل سکتے. " وہ اسے سجھانے لگے. " تم جب چاہو آ جانا تمہارا عہدہ بحال کردیا جائے گا." حمزہ تھوڑی دیر بیٹھ کر باہر آگیا. اب وہ پہلے سے زیادہ مضطرب تھا. دل کی سن کر یہاں آیا تھا پر کوئی فائدہ نہیں ہوا تھا.
اس کا رخ اپنے تھانے کی طرف تھا. سوچا تھا دوبارہ کبھی یہاں نہیں آئے گا مگر اللہ کا فیصلہ کچھ اور ہی تھا. بے تاثر سا گردن اٹھائے وہ عمارت کے اندرونی دروازے کی طرف بڑھا. کئی لوگوں نے رک رک کر اسے سلام کیا. وہ اب نئے تھانیدار کے سامنے ٹانگ پر ٹانگ جمائے بیٹھا تھا.
" تم تو پکی توبہ کر کے گئے تھے پھر واپس کیسے آنا ہوا. " تھانیدار دانت نکالتے کہہ رہا تھا. حمزہ نے اس کے طنزیہ لہجے کو نظر انداز کیا.
" انسیہ کیس کے سلسلے میں آیا ہوں. سنا ہے تم لوگ ایف آئی آر میں سیاسی ہستی کا نام نہیں ڈال رہے. " وہ سنجیدہ تھا. اور اس کی بات ہر تھانیدار نے قہقہہ لگایا.
" کیا حمزہ. تم جیسے سمجھدار آفیسر. " پھر رکا.
"اونہوں. ایکس آفیسر جب بچوں جیسی باتیں کرتے ہیں تو افسوس ہوتا ہے. کیا بھول گئے تم کس وجہ سے گئے تھے؟ میرے یار! پیسہ اور طاقت سب خرید لیتی ہے. " وہ اب تمسخرانہ انداز میں اسے دیکھ رہا تھا. اور حمزہ کو کب پتا نہیں تھا کہ یہ دولت اور طاقت کتنے انصاف کچل دیتی ہے. اس نے سر ہلایا اور دوبارہ بولا.
" مجھے اس کا نام ایف آئی آر میں چاہئیے. " تھانیدار نے نفی میں سر ہلایا. " نہیں ہو سکتا. اور ویسے بھی غریب کی کیا عزت. " اور تب حمزہ دھاڑا. " چادر غریب کی ہی تو ہے. " تھانیدار سیدھا ہو کر بیٹھا.
"میرا سر نہیں کھاؤ. جا کر اوپر بات کرو. مجھے جتنا کہا گیا میں نے وہ ہی کیا ہے. " وہ ایکدم درشت ہو گیا تھا.
" خود ایسے حالات میں بھاگ جاتے ہیں اور پھر آجاتے ہیں انصاف کی رٹ لگا کر. " وہ اونچا بڑ بڑا رہا تھا. حمزہ کے جبڑے بھنچ گئے. کیا بتاتا اسے اپنی فیملی کے لیے گیا تھا. کون سمجھتا اس کے جزبات؟ سر ہلاتا وہ کھڑا ہو گیا.
" میں ہر قیمت یہ کیس چلواؤں گا. " دروازہ مارتا وہ باہر نکل گیا. پیچھے تھانیدار نے نمبر ملاتے فون کان پر لگایا.
" حمزہ آیا تھا. اس کی باتوں سے لگا وہ ری جوائن کرنے کا سوچ رہا ہے. " پھر ادھر کی بات سنی.
" کرنے دو جو کرتا ہے. دوبارہ بھاگنا پڑے گا تو شرم سے خود ہی کسی بل میں چھپ جائے گا. " تھانیدار نے خباثت سے دانت نکالے اور فون رکھ دیا.
**************
یہ اینٹوں کا چھوٹا سا ٹوٹا پھوٹا گھر تھا.جس کے صحن میں بچھی چارپائی پر وہ ہاتھ رکھے وہ سر جھکائے بیٹھا تھا. سامنے وہی بزرگ اپنی بیٹی کے ساتھ بیٹھا تھا. لڑکی نے منہ چادر سے لپیٹ رکھا تھا.
" صاب کوئی نہیں سنتا. میں تو تھک گیا ہوں. یہ دو بار خود کشی کی کوش کر چکی ہے. " باپ بے بسی سے کہہ رہا تھا. لڑکی کی آنکھیں ڈبڈبانے لگیں. حمزہ لب کاٹنے لگا.
" کیا تم مجھے بتاؤ گی کہ وہ آدمی کون ہے. میرا مطلب وہ سیاسی شخصیت. وہ اب بھی سر جھکائے بیٹھا تھا.
" وہ. جس کا شہر میں ڈیرہ ہے. بڑی بڑی مونچھیں ہیں. اور. " اس کی آواز گیلی تھی. "ثق. ثقلین " وہ اٹکتے ہوئے بولی اور حمزہ نے جھٹکے سے سر اٹھایا.
" ثقلین؟ وہ منسٹر ثقلین؟ " لڑکی نے اثبات میں سر ہلایا تو حمزہ کی آنکھوں میں خون اتر آیا. گالیاں. گالیاں. بہت گالیاں دل سے نکلی.
" میں چلتا ہوں.وہ کھڑا ہو کر مڑا تو پیچھے سے آواز آئی.
"صاب میں انصاف کی امید کروں یا زہر کھا کر مر جاؤں؟" لڑکی ا سکے پیچھے کھڑی ہو گئی تھی.حمزہ کے قدم زنجیر ہوئے. وہ مڑا نہیں. اور کچھ کہے بغیر باہر نکل گیا. گاڑی اب سڑک پر بے لگام دوڑ رہی تھی. جبڑے بھنچے ہوِ تھے.ماتھے پر بل پڑے تھے.
اور اس سے زیادہ بے لگام اس کا دماغ تھا. چھ سال میں وہ ثقلین کا کچھ نہیں بگاڑ سکا تھا تو اب بغیر وردی کی طاقت کے کیا اکھاڑ لیتا. ایک جگہ اس نے گاڑی روک دی. اور کتنی دیر یوں ہی روکے رکھی. پھر سر تب اٹھایا جب اس کا فون بجا.
"جی. " وہ بے زاری سے بولا آگے سے حیا کی آواز کھنکی.
" آپ تو لاہور جاتے ہی ہمیں بھول گئے ہیں. پرانی محبوبہ تو نہیں مل گئی. " وہ جان بوجھ کر تذکرہ کر رہی تھی.
" یار میں پریشان ہوں.اور تنگ نہیں کرو. " وہ بے زار سا بے زار تھا. تو وہ سنجیدہ سی بولی.
"حمزہ کیس لے لو. ری جوائن کر لو." وہ کچھ نہیں بولا. بولنے کا دل بھی نہیں تھا.
" میں نے اسٹڈی پر پڑے تمہارے کاغذ دیکھے. حمزہ اس دور میں کون ایسی سچویشن میں اپنی بیٹیوں کے لیے کھڑا ہوتا ہے؟ وہ غریب ہے. بوڑھا ہے پر اپنی بیٹی کے لیے کھڑا ہوا ہے. لوگ تو ایسی صورتحال میں خود اپنی بیٹیوں کو مار دیتے ہیں. مگر وہ ایک اچھا اور مضبوط باپ ہے. جو جانتا ہے اس کی بیٹی کا قصور نہیں ہے. ورنہ تو بیٹیاں ہی قصور وار ٹھہرا دی جاتی ہیں. فیصلہ بھی ان کے خلاف ہوتا ہے, لوگ نفرت بھی انہی سے کرتے ہیں اور سزابھی ان کو ہی ہوتی ہے. " وہ کہے جا رہی تھی. اور وہ سن رہا تھا. شاید سننا چاہتا تھا.
"دوسروں کے لیے آسانی پیدا کرو. تا کہ اللہ تمہارے لیے آسانی کرے. تم اللہ کے بندوں کی حفاظت کرو,اللہ ہماری حفاظت کرے گا. تم کیوں ہمارے لیے پریشان ہوتے ہو؟ وہ کرو جو تمہیں سکون دیتا ہے. اور تمارا سکون تھانے میں ہے. ورنہ کچھ دن بعد تم ہم سے بھی تنگ آ جاؤ گے. کیونکہ تم وہ نہیں کر رہے جو تم چاہتے ہو. "
دل کا سارا غبار ہٹتا جا رہا تھا. دل بھی تو یہ ہی چاہتا تھا. ایسا نہیں کہ حیا نے اسے پہلے کبھی یہ سب نہیں کہا تھا مگر تب وہ یہ سننا نہیں چاہتا تھا اور آج جب وہ فیصلہ نہیں کر پا رہا تھا تو اسے محض بہانہ ہی چاہئیے تھا. اور بہانہ حیا نے دے دیا تھا.
" ثقلین نے کیا ہے یہ. " وہ آہستہ سے بولا مگر حیا کے لہجے میں کوئی فرق نہیں آیا.
" شاید تب ثقلین کا وقت نہیں آیا تھا. اب اللہ نے تمہیں ایک اور موقع دیا ہے. تو بس میری جان اللہ کا نام لو اور کیس میں ہاتھ ڈال دو. اللہ تمہیں کامیابی دے گا. " وہ اسے حوصلہ, ہمت, دعا سب ساتھ دے رہی تھی. اور یہ ہی لمحہ تھا جب اس نے فیصلہ لیا. فون کاٹ کر اس نے ایک اور نمبر ملایا.
" سر آئی وانٹ ٹو ری جوائن. " دو چار باتیں کر کے اسنے فون ایک طرف رکھا گاڑی اسٹارٹ کی اور دوبارہ فون اٹھا کر ایک میسج حیا کو کیا.
"کیا تم نے مجھے میری جان کہا تھا؟ " فوراً جواب آیا.
"استغفراللہ. "
____
یہ وہی تھانے کی پرانی عمارت تھی. اپنے آفس میں وہ ٹانگ پر ٹانگ دھرے بیٹھا تھا. سامنے انسیہ بیٹھی تھی اور اس کے ساتھ لیڈی کانسٹیبل تھی. وہ اس سے تمام تر تفصیلات لے رہا تھا. کچھ باتوں پر ہچکچانے لگ جاتی تو حمزہ کانسٹیبل کو اشارہ کرتا کہ چھوڑ دو. کیونکہ وہ اس کیس کو ایک الگ سرے سے پکڑنا چاہتا تھا. تمام تر بات بتا کر انسیہ نے مدد طلب نظروں سے حمزہ کو دیکھا.
" سر وہ وڈیو. " کہہ کر اس نے سر جھکایا تو حمزہ دونوں ہاتھ باہم ملا کے میز پر بازو رکھتے آگے ہوا.
"بیٹا. پہلے تو یہ سر اٹھا لو. سر ان کے جھکنے چاہئیے جو قصور وار ہیں. اور میں ان کی گردنیں لٹکتے دیکھنا چاہتا ہوں. " لڑکی نے اثبات میں سرہلایا.
" اور دوسرا تم ایسا انصاف دیکھو گی کہ لوگ کانوں کو ہاتھ لگائیں گے. " وہ اب کہ زہر خیز نظروں سے دیکھ رہا تھا. لڑکی نے اثبات میں سر ہلایا. اور حمزہ کے اشارے پر لیڈی کانسٹیبل اسے باہر لے گئی. اب وہ شیری کا نمبرملا رہا تھا.
" آئی وانٹ ایوری باڈی ان بیسمنٹ پندرہ منٹ ہیں. " گھڑی سیکھتے اس نے فون بند کر دیا اوپر ثقلین کے میسج کا نوٹیفکیشن تھا. " مبارک حمزہ. " حمزہ نے ناگواری سے فون جیب میں ڈالا اور خود بھی باہر نکل گیا. نوکریاں بحال ہو گئی تھیں. تبھی پندرہ منٹ میں شیری,سمایا, شیروان وہاں تھے. عنایا اور زویان کی دو سال پہلے شادی ہوئی تھی اور زویان اسے لے کر اپنی فیملی کے پاس دبئی چلا گیا تھا. سب لوگ کافی بدل چکے تھے. شادیاں تو سب کی ہی ہو چکی تھی اور جسمانی و ذہنی طور پر بھی وہ اب میچیور دکھتے تھے.
حمزہ سر براہی کرسی پر بیٹھا تھا. اس کے دائیں طرف شیروان اور دوسرے ہاتھ پر سمایا تھے جبکہ شیری اس کے ساتھ کھڑا لیپ ٹاپ پر جھکا ہوا تھا.
" سر جب اتنے ثبوتوں کے ساتھ کچھ نہیں ہوا تو اب ہم کیا کر لیں گے. " شیروان منہ بنا کر بولا. شیری نے سر اٹھا کر اسے دیکھا. " یہ کہتے ہوئے تم بالکل ڈائپر لگے ہو. " وہ اسے سنجیدہ سا کہتا دوبارہ لیپ ٹاپ پر جھک گیا.
" خود ہو گا ڈائپر. " پھر اس نے ناک پر ہاتھ رکھا. " سمیلی ڈائپر. " وہ بھی تڑاخ سے بولا. سمایا نے دو انگلیاں ہونٹوں پر رکھ کر مسکراہٹ چھپائی. شیری نے خفت سے اسے دیکھا. حمزہ پرسوچ انداز سے پنسل انگلیوں میں گھماتے اسے دیکھنے لگا. کہہ تو وہ صحیح ہی رہا تھا. مگر دوسری بار کے اس موقعے کو وہ جانے نہیں دینا چاہتا تھا.
تبھی وڈیو پر بحث شروع ہو گئی.
" وڈیو اتنے لوگوں تک پہنچ چکی ہے کہ ختم کرنا مشکل ہے. " شیری نے حمزہ کو دیکھا.
" سوشل میڈیا پر تو ایک منٹ لگتا ہے وائرل ہونے میں اور ایسی چیزیں تو لوگ ویسے ہی فوراً اپنے دوستوں کے ساتھ شئیر کر دیتے ہیں. " سمایا نے آگے ہوتے ہوئے کہا. حمزہ باری باری ان کو دیکھا رہا تھا.
" یا وڈیو میں منسٹر صاحب کی شکل ہوتی تو شاید کچھ بنتا. " شیروان نے کہا اور حمزہ کی گھومتی پنسل رک گئی. دماغ کئی مسافتیں طے کرنے لگا.
" کم از کم اسے صاحب مت کہو. " شیری نے جل کر کہا. اور سمایا نے حمایت کی. مگر حمزہ اب نہیں سن رہا تھا. یک دم وہ اٹھا پیچھے دیوار میں لگی الماری میں جھک کر کچھ ڈھونڈنے لگا. پیچھے میز پر وہ اب بیٹھے اپنی باتیں کر رہے تھے.
" جنت کیسی ہے. " سمایا شیروان سے پوچھ رہا تھا. ہاں شیروان کو جنت پہلی نظر میں بھائی تھی اور اس کا جھکاؤ اس کی طرف دیکھتے شیری نے بات حمزہ کے کان میں ڈالی اور پھر بات ردابہ سے ہوتے ہارون اور ہارون کے زریعے جنت کے گھر تک پہنچی وہ ویسے ہی ڈاکٹر ہارون کی عزت کرتے تھے اور حمزہ کو بھی جنت کے دوست کی حیثیت سے جانتے تھے. ادھر شیروان کے گھر پر بھی کسی کو اعتراض نہیں ہوا کہ حمزہ کے توسط سے سب ہو رہا تھا. اور انسان کی کریڈیبیلٹی ہی بہت ہوتی ہے.
" اللہ کا شکر ہے. آل فٹ. " ایک نظر الماری میں جھکی حمزہ کو دیکھتے اس نے انگڑائی لی. اب کم از کم وہ حمزہ کو دیکھ کر چپ چاپ نہیں بیٹھتے تھے.
حمزہ کو مطلوبہ چیز مل گئی تو الماری کے پٹ بند کرتا دوبارہ اپنی کرسی پر آکر بیٹھ گیا. سب سیدھے ہو گئے.
اس کے ہاتھ میں بٹنوں والا فون تھا. جو کافی پرانا اور خستہ حال تھا. اب وہ اسے کھول رہا تھا. سب جھک کر دیکھ رہے تھے. فون کھل گیا. اس نے بیٹری نکال کر باہر رکھی اور اندر سے ایک میموری کارڈ نکالا. اسے اپنے فون میں ڈالا. اور فون کے ساتھ ڈیٹا کیبل لگاتے وہ پر جوش دکھ رہا تھا.
اب شیری کے ہاتھ سے لیپ ٹاپ لے کر وہ خود بٹن دبا رہا تھا. شیری جا کر سمایا کے دوسری طرف بیٹھ گیا. تبھی اسکرین پر وڈیو ابھری. اور حمزہ نے لیپ ٹاپ ان لوگوں کی طرف گھمایا. وہ آگے ہو کر اسکرین دیکھ رہے تھے. وہ ثقلین کی وڈیو تھی. وڈیو خاصی معیوب تھی. سمایا نے ایک نظر دیکھ کر نظر ہٹا لی. شیروان نے لیپ ٹاپ حمزہ کی طرف گھما دیا. وہ اب وڈیو بند کر رہا تھا. حمزہ نے گہری سانس خارج کی. یہ وہی وڈیو تھی جس کی دھمکی حمزہ ثقلین کو دے کر آیا تھا مگر اس نے جھوٹ بولا تھا کہ وہ وڈیو اپنے دوستوں میں دے چکا ہے. بلکہ اس نے یہ سوچ کر سنبھال کر رکھے رکھی کہ اللہ نے پردہ رکھا ہے تو وہ کیوں کسی کو سر عام نشر کرے. مگر اب جبکہ وہ خود ایک گری ہوئی حرکت کر چکا تھا وہ کیا پردہ رکھنا. سب سوالیہ نظروں سے اسے دیکھ رہے تھے. حمزہ نے شیری کو اشارہ کیا.
" فیک آئی ڈی سے اپلوڈ کر دو. " شیری اٹھ کر اسکی طرف آیا. ہاتھ جلدی جلدی لیپ ٹاپ پر چلنے لگ گئے.
" سر اس سے کیا ہو گا؟ ہم تو انسیہ کیس پر کام کر رہے ہیں. " سمایا فارمل ہو گئی. تو حمزہ نے کنپٹی مسلی.
" اگر ہم ڈائریکٹ اس پر ہاتھ ڈالیں گے تو وہ ہمیں نقصان پہنچائے گا. لیکن اگر عوام اس کے خلاف آواز بلند کرے گی تو میں دیکھ رہا ہوں اس کی پارٹی اس سے ہاتھ اٹھا لے گی. الیکشن کے پاس کوئی اس کو بچانے کی کوشش نہیں کرے گا اور پھر میں اس سے نمٹ لوں گا." وہ مسکرایا. اور سر جھٹکا. " ایک فرعون کا باب ختم ہونے جا رہا ہے. " اس نے شیری کی طرف دیکھتے کہا اور شیری نے لیپ ٹاپ اس کی طرف گھمایا. اپلوڈنگ ایک کلک کی دوری پر تھی. حمزہ نے سر کو خم دیا اور یہ وڈیو اپلوڈ ہونے لگی. حمزہ نے ایک میسج ٹائپ کیا.
" خیر مبارک ثقلین صاحب! چیپٹر دی اینڈ " میسج کر کے اس نے حیا کا نمبر ملایا فون اسکرین پر حیا کی تصویر ابھری اور وہ فون کان سے لگاتا باہر نکل گیا.
********************
حیا اسٹڈی ٹیبل پر بیٹھی تقریب میں بولنے کے لیے مختلف پوائنٹ کاغذ پر اتار رہی تھی. پیچھے بیڈ پر ارہاب بیٹھا بلاکس سے مختلف شکلیں بنا رہا تھا. حیا کا فون بجا. جو بیڈ پر پڑا تھا. " ارہاب فون دو مجھے. " حیا سر جھکائے کچھ لکھ رہی تھی.
ارہاب نے بلاکس چھوڑ کر فون اٹھایا سامنے حمزہ کی تصویر تھی. وہ چہکا. اور انگلی سے اوپر کو سلائڈ کیا.
" اشلاملیکم بابا (اسلام علیکم) " حیا مسکراتے ہوئے پیچھے مڑی.
وہ اپنے لاہور والے گھر کے کمرے میں بیڈ پر لیٹتا وہ اب ارہاب سے کہہ رہا تھا.
" میرا بچہ کیسا ہے؟ " وہ شرمایا.
" میں ٹھیک ہوں. "
" اور ارہاب کی ماما کیسی ہیں. "
" ماما بھی ٹھیک. " حمزہ نے کراؤن سے ٹیک لگاتے ٹانگیں لمبی کی.
" کیا کر رہے تھے؟ "
" کھیل رہا تھا. " وہ بلاکس کو دیکھ کر بولا. اور حمزہ مسکرایا. " بابا کو مس نہیں کرتے ہو. " اور ارہاب نے ہونٹ نکالے. " آئی مش یو. آئی آکس (آسک) ماما. لیٹس گو. وہ. کہتی بابا آجائیں گے. " وہ روہانسا ہو رہا تھا. حمزہ کا دل چاہا وہ ابھی وہاں چلا جائے مگر ابھی تو اصل کام شروع ہوا تھا. تو وہ پیار سے بولا. " بابا مس یو الاٹ. جلدی سے میں اپنے ارہاب کے پاس آجاؤں گا. " ارہاب کھلکھلایا. " اوکے. ماما شے بات کریں. " حیا جو اٹھ کر اب بیڈ پر آگئی تھی ارہاب نے فون اسے تھمایا اور خود دوبارہ بلاکس کی طرف مڑ گیا.
وہ فون لے کر کمرے سے باہر آ گئی.
" میں دیکھ رہی ہوں جناب بہت مصروف ہو گئے ہیں. کہیں واقعی پرانی محبوبہ تو نہیں مل گئی؟ " وہ ایک ٹانگ صوفے پر موڑے بیٹھی تھی. حمزہ کا موڈ اچھا تھا تو فوراً بولا. " فی الحال تو نہیں ملی لیکن اگر ابھی میسج کر دوں تو ملنے ضرور آ جائے گی. " حیا نے دانت پیسے. " آئی ہیٹ یو. " اور وہ ہنسا. " نہیں. یو لو می. " حیا بھی ہنس دی.
" دل کے بہلانے کو غالب خیال اچھا ہے. "
" مطلب یو ڈونٹ لو می؟ " وہ یکدم سنجیدہ ہو گیا اور حیا محظوظ ہوتے بولی. " آاااممم! پتا نہیں. " وہ اور خفا ہو گیا. " اوکے ایٹ لیسٹ ارمینہ از شیور کہ وہ مجھ سے پیار کرتی ہے. " وہ کال کاٹ گیا. فون دوبارہ بجنے لگا. مگر وہ اسے ہاتھ میں لے کر لیٹا رہا. رنگ بند ہو گئی اور دوبارہ بجنے لگی. دو کالز کے بعد اس نے فون اٹھایا اور خفگی سے بولا. " جی بولیں. " وہ آگے سے اتنے ہی پیار سے بولی. " آئی مس یو. " وہ بولا کچھ نہیں, منہ بنائے لیٹا رہا.
" تمہارے ساتھ جینا سیکھا ہے. ہنسنا سیکھا ہے. میں شکر گزار ہوں اللہ کی کہ اس نے مجھے اتنی پریشانیوں میں ڈالا, اس نے مجھے تم سے ملوایا. میں ہر نماز میں اللہ کا شکر ادا کرتی ہوں کہ اگر وہ حادثہ نہ ہوتا تو آج میں مسز حیا حمزہ فیض بیگ نہ ہوتی. " وہ ایموشنل ہو رہی تھی. حمزہ کے تاثرات ڈھیلے پڑے. وہ کہہ رہی تھی.
" یو آر مائی لائف. یو آر مائی ایوری تھنگ حمزہ. " ناراضگی ختم ہو گئی حمزہ کے لب مسکراٹ میں ڈھلے.
" سن رہے ہو؟ " اس کی طرف سے آواز نہیں آئی تو وہ رکی.
" ہممم " وہ اتنا کہہ سکا. اس کے الفاظ اسے سکون دے رہے تھے.
" تو میری جان! آئی لو یو الاٹ. " وہ کہہ کر چپ ہو گئی. حمزہ کی مسکراہٹ گہری ہوئی. تھوڑی دیر وہ چپ رہا پھر آہستہ سے بولا. " استغفراللہ. " حیا جل گئی.
" کیا یار. ہمیشہ یوں ہی کہتے ہو. " وہ واقعتاً ہمیشہ یہ ہی جواب دیتا تھا. حیا کی خفگی بجا تھی.
" مجھے شرم آتی ہے ایسی باتیں سن کر. " وہ مسکراہٹ دبا رہا تھا. حیا نے ایک ہاتھ ہوا میں اٹھایا اور اونچا کہا.
" استغفراللہ. " اندر بیڈ پر کھیلتا ارہاب ماں کی آواز سن کر کھلکھلایا.
" استفراللہ. "
**************
وڈیو آدھے گھنٹے میں ہی ہر موبائل پر دکھنے لگی تھی. میڈیا میں تہلکہ مچ گیا تھا. ایک سیاسی جماعت کو چھوڑ کر باقیوں میں خوشی کی لہر تھی. ثقلین کے پارٹی سربراہ نے اس رسپانس کو دیکھتے فوراً اس سے قطع تعلقی کا اظہار کر دیا. سب کو اپنی اپنی پڑ گئی تھی. عزت چلی گئی. منسٹری چلی گئی. اس وڈیو پر سہاگہ یہ کہ حمزہ نے انسیہ سے پریس کانفرنس کروائی, جہاں اس نے ثقلین کو اپنے کیس میں نامزد کر دیا. سوشل میڈیا پر ' ہیش ٹیگ جسٹس فار انسیہ ' ٹاپ ٹرینڈ بن گیا. اور یہ ہی وقت تھا کہ ثقلین کے اوپر سے ہر طرح کا ہاتھ کھینچ لیا گیا عوام بینر لیے اس کے ڈیرے کے باہر سیلاب کی طرح امڈ آئی. اور اس وقت وہ جیل کی سلاخوں کے پیچھے کھڑا تھا. آنکھیں بد حواسی سے پھٹی ہوئی تھیں. حوالات کی گرمی پسینے کی صورت نچڑ رہی تھی. حمزہ نے آخری کمرے میں اسے لے جانے کا حکم دیا اور کافی دیر انتظار کروا کر وہ وہاں گیا. سامنے ثقلین اسے نفرت سے دیکھ رہا تھا.
" تم پچھتاؤ گے. " وہ ہتھکڑی میں جکڑے ہاتھوں کے ساتھ اسے دھمکی دے رہا تھا. حمزہ اطمینان سے مسکراتا کرسی کھینچ کر بیٹھ گیا. " مگر افسوس تم مجھے پچھتاتے ہوئے دیکھ نہیں سکو گے. " اس نے ٹانگ پر ٹانگ جمائی. ثقلین کو کچھ سمجھ نہیں آیا. وہ اسے گالیاں بکنے لگا. گالیاں بہت گھٹیا تھیں. حمزہ نے سب ریشنل دماغ پر چھوڑ دیا. اور کچھ دیر بعد جب وہ بول بول کر تھک گیا تو حمزہ نے پیچھے کھڑے آدمی کو اشارہ کیا. کچھ دیر بعد وہ اسے عدالت کے لیے لے جا رہے تھے. ابھی وہ اسے لے کر تھانے سے باہر آئے ہی تھے. ایک بڑا ہجوم گیٹ کے باہر کھڑا اسے گالیاں دے رہا تھا, اس کے خلاف نعرے لگا رہا تھا. غم و غصے کا اظہار کر رہا تھا. میڈیا وہاں موجود تھا حمزہ نے کالی عینک آنکھوں پر لگاتے گیٹ پر کھڑے پولءس اہلکار کو اشارہ کیا کو اسی اشارے کا منتظر تھا. گیٹ کھل گیا. ہجوم بے قابو ہو گیا. تھانے کا احاطہ لوگوں سے بھر گیا. پولیس بظاہر ان کو روکنے کی کوشش کرتی رہی. مگر وہ آگے بڑھتے گئے یہاں تک کہ ثقلین کو جا لیا. وہ اس کو گالیاں دے رہے تھے, پیٹ رہے تھے, تھپڑ, مکے لاتیں جس میں جتنا دم تھا وہ اتنا زور لگا رہا تھا. خون اس کے منہ سے بہہ بہہ کر گر رہا تھا. ٹانگین جواب دینے لگی تھیں. وہ زمین کی طرف جھکتا جا رہا تھا. اور تبھی ہجوم نے کسی کو جگہ دی. آنے والی انسیہ تھی. حمزہ چند سیڑھیوں سے اوپر کھڑا منظر دیکھ رہا تھا. انسیہ اب اس کے سر پر کھڑی تھی. وہ ہاتھ جوڑے رحم کی اپیل کر رہا تھا. انسیہ نے سختی سے آنکھیں بند کیں اور اس کے منہ پر تھوکا. اب وہ ہجوم کی طرف موڑی اور چیختے ہوئے بولی.
فاخرہ_وحید 📝
#قسط_آخری37
تم سب غلام ہو. تم سب غلام ہو. اپنے مفس کے غلام ہو. پوری دنیا فتح کر لو مگر رہو گے تم لوگ غلام ہی خود کی خواہشات کے غلام اپنے نفس کے غلام. " آنسو آنکھوں سے گرتے جارہے تھے اور وہ بولتی جا رہی تھی.
" بہن, بیٹیاں اب سانجھی کیوں نہیں رہیں؟ بیٹیاں اپنے ہی رشتے داروں سے محفوظ کیوں نہیں رہی؟ تم سب نفس کے غلام ہو. " وہ ہر طرف انگلی اٹھا کر گھوم رہی تھی. کئی سر جھک گئے. کئی آنکھوں میں تاسف ابھرا.
حمزہ نے گہرا سانس اندر کھینچا. وہ اب بلک بلک کر رو رہی تھی.
" وکٹم بھی ہم بنتی ہیں, ظلم بھی ہمارے ساتھ ہوتا ہے. پھر عزت بھی ہماری جاتی ہے. نفرت اور حقارت بھی ہمارے حصے آتی ہے. خاموش رہنے کا بھی ہمیں کہا جاتا ہے. کون لوگ ہو تم؟ کون لوگ ہو؟ " وہ چلا رہی تھی. چلاِ جا رہی تھی. یہاں تک کہ دماغ کو لگا وہ اور تکلیف برداشت نہیں کر سکے گی اور دماغ ماؤف ہو گیا. وہ بے ہوش ہو کر گر پڑی. لیڈی کانسٹیبلز نے اسے سہارا دے کر اندر لے گئیں. ہجوم دوبارہ متشعل ہو کر ثقلین پر ٹوٹ پڑا. اور فرعون کا باب ختم ہو گیا.
حمزہ جانے کو مڑا. نظر گیٹ پر کھڑی عورت پر پڑی. وہ سیاہ چادر سے منہ چھپائے ہوئے تھی. حمزہ کو اپنی طرف دیکھتے پا کر وہ مڑ گئی اور تیز تیز قدم اٹھاتی ایک طرف چل دی. حمزہ اس کے پیچھے بھاگا. وہ اور تیز ہو گئی. وہ اب ایک کالی گاڑی میں بیٹھ رہی تھی. حمزہ اس کے سر پر جا پہنچا. دوسری طرف کا دروازہ کھول کر اس نے اندر دیکھا اور سب ساکت ہو گیا. وہ ارمینہ تھی. وہ بھی وہیں رک گئی. آنکھوں کے گرد سیاہ ہلکے اور بغیر میک اپ کے مرجھایا ہوا چہرہ. آنکھوں میں آنسو امڈنے لگ گئے. حمزہ جانے کو مڑا تو وہ لرزتی آواز کے ساتھ بولی. " تھوڑی دیر رک جاؤ. " اس کے قدم زنجیر ہوئے. مڑ کر اسے دیکھا. اور اندر بیٹھ گیا. کئی لمحے خاموشی رہی. پھر حمزہ بولا. " کیسی ہو؟ " وہ آنسوؤں میں ہنسی. حمزہ نے سر اٹھا کر اسے دیکھا.
" ٹھیک ہوں . ایک دم ٹھیک ہوں. " وہ ہنسے جا رہی تھی.
وہ چپ ہو گیا. وہ بغور اسے دیکھنے لگی. " تم خوش ہو؟ "حمزہ نے شانے اچکائے. " الحمدللہ. "
" ہممم.. " ارمینہ نے سر جھٹکا. چادر اب بھی لپیٹے ہوئے تھی. "تم نے کیا حالت بنا رکھی ہے. وہ میک اپ. کاجل لگی آنکھیں, گہری لپ اسٹک. کہاں گئے سب؟ " اسے یوں دیکھ کر واقعتاً اسے ڈر لگا تھا اسے کے گال پچکے پڑے تھے. ارمینہ زخمی سا مسکرائی. اور سر سے چادر اتاری. حمزہ کے گلے میں گلٹی ڈوب کر ابھری. اس کے سر پر بال نہیں تھے. اور پھر شکل ایسی ہوئ پڑی تھی کہ اسے خوف آنے لگا. اور وہ نظریں پھیر گیا. ارمینہ نے ہنستے ہوئے چادر دوبارہ سر پر رکھ لی.
" یہ کیا ہوا. " وہ اسے دیکھے بغیر پوچھ رہا تھا. وہ سنجیدہ ہو گئی. آنکھوں میں کرب در آیا.
" تم مجھے چھوڑ کر چلے گئے. " آنسو گرنے لگے. حمزہ نظریں ڈیش بورڈ پر گاڑے بیٹھا رہا.
" میں نے ثقلین کے ساتھ کام کرنے سے منع کر دیا. اسے لڑکیاں سپلائی کنے سے انکار کر دیا. تو اس نے. اس نے میر اہی سودا کر دیا. " وہ اب حمزہ کو اذیت سے دیکھ رہی تھی.
" میں اس کو لڑکیاں دیتی تھی اور وہ مجھے بیچنے پر تل گیا. میرے انکار پر اس نے مجھ پر تشدد کیا. اپنے غنڈوں کے آگے ڈال دیا. میرے بال کاٹ دیے. میں چیخی چلائی. بہت مدد مانگی کوئی نہیں آیا. سارے یار دوست سب نے منہ موڑ لیا. میرا شوہر میرا نہیں رہا. مین اکیلی رہ گئی حمزہ. دولت ہے مگر عزت نہیں ہے. دولت ہے پر سکون نہیں ہے. " وہ اب روئے جا رہی تھی. حمزہ اس کے لیے برا محسوس کر رہا تھا. اس نے ہمیشہ اسے شوخ سا دیکھا تھا. اب وہ بھیانک لگ رہی تھی. حسن کو زوال آ گیا تھا. حمزہ کا دل چاہا وہ ابھی گاڑی سے نکل جائے مگر شاید اس کے چند الفاظ اس لڑکی کو دوبارہ جینے کے حوصلہ دے دیں. تو وہ بیٹھا رہا.
" مگر آج میں نے اپنا بدلہ لے لیا. " اس نے گردن تان کر پیچھے تھانے کے کالے گیٹ کو دیکھا. حمزہ کی گتھی بھی سلجھ گئی. جس لڑکی کا ذکر انسیہ کے والد نے کیا تھا وہ ارمینہ تھی.
پھر وہ اپنی داستان سناتی رہی. وہ سنتا رہا یہاں تک کہ الفاظ ختم ہوگئے آنسو تھم گئے پھر اس نے سر اٹھایا.
" ارمینہ! آگے بڑھ جاؤ. " ارمینہ نے سوالیہ نظروں سے اسے دیکھا.
" صحیح کہہ رہا ہوں. زندگی کا یہ باب یہیں بند کر دو. اور ایک نئی زندگی کا آغاز کرو, نئے اور اچھے لوگوں کے ساتھ. مگر اس کے لیے تمہیں پہلے خود اچھا بننا ہو گا. ارمینہ جو لوگ غلط کام کر لیتے ہیں نا ان میں اسپارک ہوتا ہے. اگر اس انرجی کو وہ صحیح جگہ لگائیں تو ایک دنیا ان کے پیچھے کھڑی ہو گی. تم میں انرجی ہے مگر تم اسے غلط جگہ لگا رہی ہو. اب اس انرجی کو مثبت جگہ لگانے لگ جاؤ. اپنی تکلیف کو اپنی طاقت بنا لو. خود کے لیے خود کو معاف کر کے. ان لوگوں کو معاف کر کے آگے بڑھ جاؤ. اللہ تمہیں ہمت دے. " کہہ کر اس نے ٹک سے دروازہ کھولا اور لمبے ڈگ بھرتا گاڑی سے دور چلا گیا. وہ اسٹیئرنگ پر ہاتھ دھرے بیٹھی رہی. اس کے لفظوں پر غور کرتی رہی, پھر حمزہ کے الفاظ دہرائے.
" ارمینہ! آگے بڑھ جاؤ. " چابی اگنیشن میں گھمائی اور گاڑی کے ساتھ وہ خود بھی آگے بڑھ گئی.
اور آگے وہ ہی بڑھ پاتا ہے جو بڑھنا چاہتا ہو, پھر لوگوں کے کہے الفاظ اور دلاسے تو محض بہانہ بن جاتے ہیں!
****************
یہ ایک بہت بڑا ہال تھا. تا حد نگاہ لوگ بیٹھے تھے. یہ لوگ عام لوگ نہیں تھے. یہ سب اپنی فیلڈ میں کام کرنے والے دنیا کے ہر کونے سے آئے کامیاب لوگ تھے. ہال روشن سا روشن تھا. تقریب شروع ہوئے ایک گھنٹہ گزر چکا تھا. کئی لوگوں کو اپنی اپنی فیلڈ میں بہترین کام کرنے کا ایوارڈ مل چکا تھا. اور اب ایک لڑکی روسٹرم کے دوسری طرف کھڑی حاضریں کی تالیاں تھمنے کا انتظار کر رہی تھی. اس کے سینے پر بائیں طرف چھوٹا سا سبز, سفید جھنڈا لگا تھا. وہ سیاہ شلوار قمیص پر سرخ دوپٹہ گلے سے لگائے کھڑی پانچویں قطار کی پہلی نشست پر بیٹھے اپنے شوہر کو دیکھ رہی تھی. جو اسی کی طرح سیاہ شلوار قمیص میں ملبوس تھا اور اس کی گود میں اس کا بیٹا باپ کی طرح ہی ڈریسنگ کیے بیٹھا تھا. دونوں ہاتھ اٹھا اٹھا کر تالیاں بجا رہے تھے. تالیوں کو شور تھما. لڑکی نے مائیک منہ کے آگے سیٹ کیا. یوں لگا جیسے وہ پہلی بار اسٹیج پر کھڑی ہو کر بول رہی ہے. یہ عام لوگ نہیں تھے. یہ کامیاب ترین لوگ تھے ان کے رشتے دار تھے. چائینیز تھے, جابانی تھی, امریکی, انڈین, انگلش, روسی سب تھے. اس نے دل میں ' رب یسرلی ' پڑھی اور مائیک دوبارہ سیٹ کیا. اور جب بولی تو ہال میں سناٹا چھا گیا.
" میں کوئی سائیکالوجسٹ نہیں تھی. نہ ہوں. اور نہ ہی کوئی مقرر یا رائٹر تھی. میں عام لڑکی تھی. ہر لڑکی کی طرح عام. " پھر رکی اور مسکرائی. " اور ہر لڑکے کی طرح عام. "
" زندگی کو نئی راہ ایک حادثے نے دکھائی. " پھر اس نے پانچویں قطار کی پہلی نشست پر بیٹھے حادثے کو دیکھا. اس نے مسکرا کر سر کو خم دیا. ارہاب نے ہاتھ ہلایا. اور وہ دوبارہ حاضرین کی طرف متوجہ ہو گئی.
" اور آج میں اپنا سیکھا پانچ منٹ میں ان لوگوں تک پہنچانا چاہتی ہوں جو کسی بھی وجہ سے زندگی میں رک گئے ہیں. ہم سب کی زندگی مین ایسے حادثے ہوتے ہیں کہ وہ ہمیں گرا دیتے ہیں, توڑ دیتے ہیں, وہ تکلیف ایسی ہوتی ہے کہ کسی نے سینے میں چھرا گھونپ دیا ہو, وہ تکلیف ایسی ہوتی ہے کہ آسمان گر گیا ہو. وہ تکلیف ایسی ہوتی ہے کہ کسی نے دل مٹھی میں بھینچ کر ٹکڑے کر دیا ہو. " وہ انگریزی میں بولے جا رہی تھی.
" لگتا ہے زندگی ختم ہو گئی ہے. ہم ختم ہو گئے ہیں. پھر خود کو دی جانے والی جسمانی اذیتیں بھی تکلیف نہیں دیتیں ےبھی ان اذیتوں سے گزرے لوگوں کا بس جب کسی چیز پر نہیں چلتا, حالات پر نہیں چلتا تو وہ اس اذیت میں تڑپتے ہوئے خود کو مارتے ہیں. بال نوچتے ہیں. چھری سے جسم کاٹتے ہیں کہ اند سینے مین موجود دل کے کٹنے کی تکلیف بے پناہ ہوتی ہے. " ہال میں سنسنی پھیل گئی.
" میں ان تکلیفوں سے گزری ہوں. میرا شوہر ہر اذیت سے گزرا ہے. " شوہر کو دیکھا تو وہ دم سادھے اسے سن رہا تھا. مگر آج پچھلے زخم ہرے نہیں ہوئے تھے.
" ہمیں لگتا ہے. ہم برے ہیں, ہم بد قسمت ہیں, تبھی ہم خود سے نفرت کرنے لگ جاتے ہیں. لوگوں سے نفرت کرنے لگ جاتے ہیں. خود کو اپنے کمرے میں, گھر میں , خود میں قید کر لیتے ہیں. ڈپریشن میں چلے جاتے ہیں. زندگی جہنم ہو جاتی ہے. موت کی طلب بڑھ جاتی ہے. " وہ کہے جا رہی تھی.
" مگر آج میں ہر ٹوٹے دل, ہر کھوئے ہوئے, ہارے ہوئے, تھکے ہوئے سے مخاطب ہوں. سیلف کے یہ کچھ پوائنٹ مین رکھ رہی ہوں. انکو اٹھا لو اور خود کو سنوار لو. "
" سب سے پہلا ہے identify yourself. خود کو پہچانو. جانو تم کون ہو, تمہارا مقصد کیا ہے. اللہ نے تمہیں کیوں بھیجا ہے. زمین پر موجود ایک درخت, ایک پہاڑ, ایک کیڑا بھی بوجھ نہیں ہے. تو تم بے مقصد نہیں ہو سکتے. خود کی تلاش میں نکلو. اپنے دل میں جھانکو. سجدوں میں ڈھونڈو. رات کے تیسرے پہر ہاتھ اٹھاؤ. جب تم میں خود کو جاننے کی طلب ہو گی تو اللہ تمہارے دل میں تمہارا مقصد ڈال دے گا. " وہ سانس لینے کو رکی پھر آگے بولی.
" بی یور سیلف. "
" جو ہو وہی رہو. خود کو لوگوں کی دیکھا دیکھی مت بدلو. ڈونٹ ٹرائی ٹو بی سم ون ایلس بکز ایوری باڈی ایلس از آ ل ریڈی ٹیکن. ( کسی اور کی طرح بننے کی کوشش مت کرو کیوں کہ وہ پہلے ہی لیا جا چکا ہے. ) اگر تمہارا رنگ کالا ہے تو بھی تم خوبصورت ہو. رات کالی ہے اور خوبصورت ہے بالکل تمہاری طرح. "
" اور بی یورسیلف کا اصول ہے کہ خود کا دوسروں سے موازنہ مت کرو. اگر موٹیویشن چاہئیے تو اوپر والوں کو دیکھو اور اگر احساس کم تری ہو رہا ہے. تکلیف ہو رہی ہے تو فوراً نیچے والوں سے موازنہ کرو. تمہارے پاس گاڑی نہیں ہے تو دیکھو کسی کے پاس سائکل بھی نہیں ہے. تمہارے پاس بڑا گھر نہیں ہے کوئی فٹ پاتھ پر سو رہا ہے. تمہارے پاس کھانے کو پزا برگر نہیں ہے کوئی کچرے سے کھا رہا ہے. موازنہ کرنا ہی ہے تو ایسے کرو. "
حاضرین نے تالیاں بجائی وہ چپ ہو گئی. ارہاب اب حمزہ کی گود مین اچھل اچھل کر تالیاں بجا رہا تھا.
" ویلیو یورسیلف. " وہ دوبارہ بولی.
" جب تم خود کو جان جاؤ تو اپنے آپ کو اہمیت دو. ویلیو دو. خود پر کام کرو. خود کو اپ گریڈ کرو. نئی سکلز سیکھو کہ فیوچر ڈگری کا نہیں ہنر کا ہے. میں کہتنی ہوں ہر لڑکا اور لڑکی کو ایک ایسا ہنر ضرور آنا چاہئے کہ جب وہ چاہے اس سے پیسے بنا لے. خود کو بہتر سے بہتر بناؤ. "
" ویلیو دینے کا دوسرا اصول ہے کہ کسی کو بھی اجازت مت دو کہ تم پر انگلی اٹھائے. وہ تمہیں تکلیف دے, تمہیں ہرٹ کرے. تمہارا مینٹل پیس خراب کرے. اپنے گرد ہیلتھی باؤنڈری بنا لو. ہر کسی کو یہ باؤنڈری پار مت کرنے دو. اور زندگی میں ' نہ ' کہنا سیکھو. جب کوئی تمہیں تمہاری مرضی کے خلاف یا تمہاری مجبوری کا فائدہ اٹھا کر کوئی کام کروانا چاہتا ہو تو اسے نہ کہہ دو. لرن ٹو سے نو. بکز بائی سیئینگ نو ٹو ادھرز یو آر سئینگ یس ٹو یور سیلف. ( نہ کہنا سیکھیں, کیونکہ دوسروں کو نہ کہہ کر آپ خود کو ہاں کہہ رہے ہوتے ہیں. ) ہال میں پھر تالیاں گونجی.
" ایکسیپٹ یور سیلف. "
" تم جیسے ہو خود کو قبول کر. قد چھوٹا ہے, رنگ کالا ہے, بہت لمبے ہو. جو بھی ہے جیسے بھی ہے خود کو قبول کرو لوگ تب ہی تمہیں قبول کریں گے جب تم خود کو قبول نہیں کرتے تو لوگ تمہارا مزاق اڑاتے ہیں.تم خود کو آج قبول کر لو. اس حد تک قبول کر لو کہ جب کوئی تمہاری کسی کمی کا مزاق اڑائے تو اس اعماد سے سر اٹھائے بیٹھے رہو کہ اسے لگے اس نے کچھ غلط بول دیا."
" فار گو یور سیلف " کہہ کر وہ مسکرائی.
" ٹھیک ہے تم نے غلط بندہ چن لیا,ٹھیک ہے تم وقت پر صحیح لوگوں کو ٹائم نہیں دے سکے. ٹھیک ہے تم ٹیسٹ پاس نہیں کر سکے, ٹھیک ہے تم میڈیکل میں نہیں جا سکے, ٹھیک ہے تم انجینیئر نہیں بن سکے, ٹھیک ہے تم نے زندگی میں غلط فیصلے لے لیے, ٹھیک ہے تم اچھے لوگوں کو نہیں پہچان سکے. ٹھیک ہے تو نے کسی کو ہرٹ کر دیا. اب خود کو معاف کر دو پلیز. دوسروں کی معافی کے لیے ضروری ہے کہ تم خود کو معاف کر دو. ہر پچھتاوا پیچھے چھوڑ کر آگے بڑھ آؤ. کوئی تمہیں تمہاری تکلیفوں سے نکالنے نہین آئے گا مگر تم خود اپنا بازو پکڑ خود کو باہر کھینچ لاؤ. اپنا مسیحا خود بن جاؤ. " وہ سانس لینے کو رکی پھر گویا ہوئی.
" لو یورسیلف. "
"لو یور سیلف کا اصول ہے رسپیکٹ یور سیلف. کوئی تمہاری تب تک عزت نہیں کرے گا جب تک تم اپنی عزت نہیں کرو گے. وہ انسان کسی سے کیا محبت کرے گا جسے خود سے اپنی ذات سے ہی پیار نہیں ہے. ہم دوسروں سے محبت کے بڑے بڑے دعوے کرتے ہیں خود کو اس کے آگے رول دیتے ہیں, گرا دیتے ہیں. تماشہ بنا دیتے ہیں. پیارے لوگو! خود سے محبت کرو. دوسروں کے سامنے گرنا نہیں کھڑا ہونا ہے. ڈونٹ لیٹ اینی باڈی ڈس رسپیکٹ یو. "
" اور جب تم خود کو عزت دینا, ویلیو دینا سیکھ جاؤ گے تو تم دوسروں کو بھی یہ سب دے سکو گے. اور پھر جب تم زند گی میں کسی مقام پر پہنچ جاؤ تو اپنے سے نیچے والوں کا ہاتھ تھام کر اوپر کھینچ لینا. "
" مجھے عہد چاہئیے کہ ہم ہار نہیں مانیں گے. اپنے لیے لڑیں گے. اپنی پہچان بنائیں. میں ان لوگوں سے امیوز نہیں ہوتی جو اپنے والد کا پیسہ شو آف کرتے ہیں. اگر تم کچھ ہو تو اپنا کمایا دکھاؤ. مجھے بتاؤ تمہارا کیا ہے. ہم وکٹم نہیں ہیں ہم فاتر ہیں,ہم لڑیں گے. اپنی تکلیفوں سے.اپنے غموں سے. "
" پیارے لوگو! وی آل ول رائز. لیکن ضروری ہے کہ خود کو پہچان لو. ہم عام نہیں ہیں. کوئی بھی عام نہیں ہے. سب اپنی اپنی پسند کی فیلڈ میں آگے بڑھ آؤ, کچھ کر جاؤ. تمہاری پہچان تمہارا خاندان, تمہارے ماں باپ,بہن بھائی نہیں ہیں. اپنی پہچان تم خود ہو. میں نہیں جانتی تم کس کے بیٹِ ہو, کس کی بیٹئ ہو مجھے بتاؤ تم کون ہو. فائنڈ یورسیلف. فائنڈ دی پرپز آف یور لائف. "
" آخر میں اپنے بارے میں کہوں گی میں نے اللہ سے مدد مانگی اس نے مجھے رستہ دکھایا. میں نے خود کو پہچانا. میں آج یہاں کھڑی ہوں. میں حیا نہیں ہوں. میں حمزہ کی بیوی نہیں ہوں,میں ارہاب کی ماں نہیں ہوں. کہ یہ تو میرا نام, میرا شوہر اور میرے بیٹے سے رشتہ ہے. میں ایک کوشش ہوں. جو نکلی ہے لوگوں کی زندگیاں سہل کرنے ان کو خود سے ملوانے مگر یہ تب ہی ممکن ہے جب آپ لوگ بھی اپنے لیے قدم بڑھائیں گے مین رستہ دکھا سکتی ہوں منزل کا تعین کر کے قدم آپ کو خود بڑھانا ہے. " پھر اس نے گردن تانی. نظر نے ایک لمحے میں پہلی کرسی سے آخری کرسی تک مسافے طے کی اور ہال نے اسے کہتے سنا.
" میں پرفیکٹ نہیں ہوں. "
میں اچھی ہوں میں بری ہوں.
میں ولی ہوں, میں گناہگار ہوں.
میں ہاری ہوئی ہوں, میں جیتی ہوئی ہوں.
میں, میں ہوں , اور میں خود پر شرمندہ نہیں ہوں.
ہاں میں, میں ہوں.
میں میں ہوں.
وہ مائیک سے ایک قدم پیچھے ہٹ گئی. بول بول کر چہرہ سرخ پڑ گیا تھا اور پھر تالیاں بجی. ہاتھ اٹھا اٹھا کر اور پھر اس نے دیکھا حمزہ ارہاب کو گود میں لیےا کھڑا ہوا. وہ تالیاں بجا رہا تھا., ارہاب تالیاں بجا رہا تھا. لوگ اب اپنی کرسیوں سے اٹھ کر تالیاں بجا رہے تھے. وہ ہانپ رہی تھی. دل دھڑک رہا تھا. کئی لمحے تالیاں بجتی رہیں. وہ دم بہ خود کھڑی رہی.
" مسز حیا آپکی باتیں سن کر ہم ٹرانس میں چلے گئے. ہمیں پتا ہی نہیں چلا کتنا وقت گزر گیا. " میزبان دوسرے کونے سے کہہ رہا تھا وہ چونکی. پھر مسکرائی. اور با وقار سی قدم بڑھاتی ان کی طرف گئی. اسے اپناایوارڈ رسیو کرنا تھا. وہاں پہنچ کر کھڑی ہوئی تو دوبارہ آواز گونجی. " مسٹر حمزہ آپکی بیوی آپکو اس لمحے اپنے ساتھ دیکھانا چاہتی ہیں. پلیز جوائن اس ایٹ دی اسٹیج." مائیک خاموش ہوا اور حمزہ ارہاب کو گود میں لیے اسٹیج کی سیڑھیاں چڑھتا اوپر آیا. ارہاب کو نیچے اتارتے ایک ہاتھ حیا کی کمر میں ڈالے وہ اس کے ساتھ کھڑا ہو گیا. کیمروں کا فوکس یہ کپل تھا.
یہاں سے دور ٹی وی اسکرین کے سامنے ہارون, ردابہ, شیری, سمایا, انیقہ اسکا شوہر اور ایک ڈیڑھ سال کا بچہ بیٹھے آنکھوں میں چمک خوشی اور فخر لیے حمزہ اور حیا کو دیکھ رہے تھے. تبھی شیری نے فون نکال کے ایک میسج حمزہ کے لیے چھوڑا.
" آج اس خوشی کے ساتھ آپکا یہ بھائی ابا اور آپ تایا ابو بننے جا رہے ہیں. " مسکراتا وہ دوبارہ اسکرین کی طرف مڑ گیا. ہاتھ بڑھا کر سمایا کا ہاتھ اپنے ہاتھ میں لیا وہ اس کی طرف دیکھ کر مسکرائی اور نظریں دوبارہ ٹی وی پر کھڑے حیا حمزہ کی طرف مڑ گئی. وہ ایوارڈ رسیو کر چکی تھی اب حمزہ کے ہاتھ میں مائیک تھا.
" آپ لوگ یقین نہیں کریں گے میں نے آج پہلی بار اپنی بیوی کو یوں بولتے دیکھا ہے. میں نے اسے کبھی سیشن دیتے نہیں دیکھا مگر آج مجھے لگا میں دوبارہ پیدا ہوا ہوں. مجِ دوبارہ خود کو پہچاننا ہے. دوبارہ جینا ہے. " گرفت حیا پر مضبوط ہوتی گئی. ارہاب دونوں کے آگے کھڑا اتنے لوگوں کو دیکھ رہا تھا.
" میں کبھی ڈھنگ سے کہہ نہیں پایا مگر آج کہنا چاہتا ہوں. حیا تم وہ چراغ ہو جو کئی بجھے چراغوں کو روشنی دینے جا رہی ہو. کئی زندہ لاشوں میں زندگی کی رمق بھرنے جا رہی ہو. اور حیا میں کہنا چاہتا ہوں. " اس نے گردن موڑ کر حیا کو دیکھا جس کا چہرہ اتنی نظروں کی تپش سے سرخ پڑ رہا تھا. وہ کچھ سیکنڈ اسے دیکھتا رہا جھک کر ارہاب کو گود میں اٹھایا.
" تھینک یو فار گونگ می جونئیر حمزہ. تھیینک یو فار بینگ ان مائی لائف. " پھر رخ حاضرین کی طرف موڑا.
" حیا از مائی لائف, حیا از مائی لو, حیا از مائی ایوری تھنگ. " وہ رکا پھر حیا کو دیکھا.
" حیا آئی لو یو. " حیا کا سرخ چہرہ اور دہکنے لگا. اس نے یوں کہنے کو تو نہیں کہا تھا کچھ دیر وہ کھڑی رہی پھر اپنا مائیک سامنے کیا. " استغفراللہ. "
ہال میں بیٹھے مسلمانوں نے قہقہہ لگایا. اور باقی ان کا منہ دیکھنے لگے. تبھی ارہاب باپ کہ مائک پر جھکا.
" استفراللہ" ٹی وی کے سامنے سب نے قہقہے لگائے. ہال میں ارہاب کے لیے تالیاں بجیں اور وہ شرمندہ سا باپ کے سینے میں گھس گیا.
اب تم ' حیا ' کو یہیں چھوڑ کر جاؤ اپنی زندگی میں اور دیکھو کیا رکھا ہے کرنے کو اللہ نے تمہارے لیے!
ختم شد


0 Comments