کوئی ہنسا کے تو کوئی رلا کے جائے گا
یوں ظرف ہر کوئی اپنا دکھا کے جائے گا
زمانہ پرکھے گا تجھ کو بس اک حوالے سے
دیا جلائے گا تو یا بجھا کے جائے گا
برا ہے، اچھا ہے استاد ہے مگر تیرا
کہ کچھ نہ کچھ تجھے ہر اک سکھا کے جائے گا
جو نامراد ہیں دلدل بنا رہے ہیں یہاں
جو کامیاب ہے رستہ بنا کے جائے گا
خسارے میں ہے جو بس دوسروں پہ حاوی ہے
ہرائے گا جو نفس، وہ کما کے جائے گا
تو اس کا قرض وہاں پر چکا نہ پائے گا
یاں جس کے حصے کا تو مسکرا کے جائے گا
خیال کیجئے دل کے نہ پاس آئے کوئی
جو پاس آئے گا وہ آزما کے جائے گا
ہیں لفظ چاہے بہت تلخ ترش ابرک کے
سماعتوں کو یہ امرت پلا کے جائے گا
عروج اپنے پہ رکھنا کڑی نظر ابرک
اندھیرے تجھ میں یہ ورنہ جلا کے جائے گا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔


0 Comments